دار الافتاء و تحقیق
الرحمٰن ڈیجیٹل اسلامک سنٹر
www.marahmaninstitute.com | marahman1988@gmail.com
والدین سے محبت و احترام کی شرعی حدود و قیود
مصنف: حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہری
خطبۂ جمعہ 2اکتوبر2026والدین سے محبت و احترام کی شرعی حدود و قیود
دنیاوی معاملات، شادی کے بعد گھریلو حدود، اور احسن انداز میں معذرت کا سلیقہ
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء: 1)نکتہ: سورۃ النساء کی پہلی آیت پر غور کیجیے: ایک ہی سانس میں اللہ کا تقویٰ بھی ہے اور "الْأَرْحَام" (رشتوں) کا تقویٰ بھی، اور اسی آیت میں میاں بیوی کے جوڑے کا ذکر بھی ہے۔ گویا آج کے موضوع کا خلاصہ خود قرآن کی اس افتتاحی آیت میں موجود ہے: والدین، رحم کے رشتے اور ازدواجی رشتہ، سب اللہ کی امانتیں ہیں اور سب کا حق ادا کرنا تقویٰ ہے۔
- 1. تمہید: آج کا سوال
جب اولاد کی تربیت اسلامی خطوط پر نہ ہو تو وہ کس طرح والدین کے لیے آزمائش بلکہ دشمن بن جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھیے! دینِ اسلام کسی ایک پہلو پر رک کر دوسرے کا حق غصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شریعت کا حسن یہ ہے کہ وہ ایک طرف ماں کے قدموں تلے جنت دکھاتی ہے اور دوسری طرف انسان کو اندھی تقلید اور ظلم کے گڑھے میں گرنے سے بھی روکتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس توازن کو ایک جملے میں سمو دیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے اپنے بھائی حضرت ابو الدرداءؓ سے فرمایا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی:
«إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ» — فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «صَدَقَ سَلْمَانُ»"فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ" — یہی آج کے خطبے کی کنجی ہے۔ ماں باپ کا حق اپنی جگہ، بیوی بچوں کا حق اپنی جگہ، اپنی جان کا حق اپنی جگہ۔ جو ایک کا حق دوسرے کو دے دیتا ہے، وہ نیکی نہیں، ظلم کر رہا ہے، خواہ اس کا نام "فرمانبرداری" رکھ لے یا "آزادی"۔
آج ہم چند سوالوں کا جواب قرآن و سنت اور سلف صالحین کی روشنی میں تلاش کریں گے:
· والدین کے احترام اور اطاعت کا شرعی دائرہ کہاں تک ہے؟
· دنیاوی، مالی اور گھریلو معاملات میں محبت اور حدود کا توازن کیسے قائم ہو؟
· شادی کے بعد اگر والدین کی طرف سے بلاجواز مداخلت ہو تو شریعت خاموشی سے ظلم سہنا سکھاتی ہے یا حدود کا تعین؟
· جب کسی غیر شرعی یا نقصان دہ مطالبے پر انکار لازم ہو جائے تو بدتمیزی اور گناہ کے بغیر "احسن انداز میں معذرت" کیسے کی جائے؟
· اور اس موضوع پر جو اشکالات پیش کیے جاتے ہیں، ان کا علمی جواب کیا ہے؟
- 2. پہلے مقام کو پہچانیے: والدین کا مرتبہ قرآن و سنت میں
حدود کی بات کرنے سے پہلے یہ بات دل میں بٹھا لیجیے کہ ہم جس رشتے کی حدود بیان کر رہے ہیں وہ اللہ کے بعد سب سے بڑا رشتہ ہے۔ حدود کی بات اس لیے نہیں کہ والدین کا درجہ کم کیا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ مقدس رشتہ ظلم کے داغ سے محفوظ رہے۔
الف) توحید کے ساتھ والدین کا ذکر
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًانکتۂ تدبر: اس آیت میں پانچ آداب بیان ہوئے: (1) "اُف" نہ کہنا، یعنی ناگواری کا ہلکا سا اظہار بھی نہیں۔ (2) "لَا تَنْهَرْهُمَا" یعنی جھڑکنا نہیں۔ (3) "قَوْلًا كَرِيمًا" یعنی عزت والی بات۔ (4) "جَنَاحَ الذُّلِّ" یعنی عاجزی کا رویہ۔ (5) دعا۔ غور کیجیے! یہ سب آداب "لہجے، رویے اور خدمت" کے ہیں۔ یہاں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ ان کے ہر حکم پر بلا شرط عمل کرو۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آج کی پوری گفتگو کھڑی ہے: ادب غیر مشروط ہے، اطاعت مشروط ہے۔
ب) ماں کا تین گنا حق
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: لوگوں میں میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: "تمہاری ماں۔" پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: "تمہاری ماں۔" پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: "تمہاری ماں۔" پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: "تمہارا باپ۔"(صحیح بخاری: 5971، صحیح مسلم: 2548)
ج) جنت کا دروازہ
حضرت جاہمہؓ جہاد کی اجازت لینے آئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا:
«فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا»اور فرمایا:
«رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ»اور تین بار فرمایا: "اس کی ناک خاک آلود ہو!" پوچھا گیا: کس کی یا رسول اللہ؟ فرمایا: "جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔"(صحیح مسلم: 2551)
د) سلف کی خدمتِ والدین کی چند جھلکیاں
· غار والے تین آدمیوں میں سے ایک نے اللہ کے حضور یہ عمل پیش کیا کہ وہ رات کو دودھ لے کر آیا تو والدین سو چکے تھے؛ وہ پیالہ ہاتھ میں لیے صبح تک کھڑا رہا، بچے بھوک سے بلبلاتے رہے مگر اس نے والدین سے پہلے کسی کو نہ پلایا۔ اسی عمل کے وسیلے سے چٹان سرک گئی۔ (صحیح بخاری: 2272، صحیح مسلم: 2743)
· حضرت اویس قرنیؒ اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے نبی ﷺ کی زیارت کو نہ آ سکے؛ آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا کہ اگر ان سے ملو تو ان سے اپنے لیے دعا کروانا۔ (صحیح مسلم: 2542)
· ایک یمنی شخص اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھا کر طواف کروا رہا تھا۔ اس نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا: کیا میں نے ماں کا حق ادا کر دیا؟ فرمایا: "نہیں، (ولادت کے وقت) اس کی ایک چیخ کا بدلہ بھی نہیں۔" (الادب المفرد للبخاری: 11)
· حضرت ابو ہریرہؓ اپنی مشرکہ والدہ کی ہدایت کے لیے روتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آئے، دعا کروائی، اور جب لوٹے تو ماں کلمہ پڑھ چکی تھیں۔ (صحیح مسلم: 2491)
یہ ہے وہ مقام جس کی حفاظت کرنی ہے۔ اب سنیے کہ اسی شریعت نے اس مقام کی حدود کیسے متعین کیں۔
- 3. لغوی و اصطلاحی تحقیق: "بِرّ"، "طاعت" اور "عقوق" کا فرق
اہلِ علم نے اس نکتے پر گہری بحث کی ہے کہ قرآن و سنت نے والدین کے لیے بنیادی لفظ "بِرّ" اور "اِحسان" استعمال کیا ہے، محض "طاعت" نہیں۔
بِرّ (احسان و بھلائی)
لغت میں "البِرّ" کا مطلب ہے بھلائی کی وسعت، دل کی نرمی، حسنِ سلوک اور اکرام۔ اصطلاحِ شریعت میں: والدین کے ساتھ ہمدردی، ادب، مالی و بدنی خدمت اور راحت رسانی کا وہ رویہ جو دائمی ہے اور زندگی کے کسی موڑ پر ساقط نہیں ہوتا، چاہے والدین کافر ہی کیوں نہ ہوں۔
طاعت (حکم کی بجا آوری)
لغت میں "طاعت" کا مطلب فرمانبرداری اور حکم ماننا ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں: والدین کی ہر وہ بات ماننا جو دائرۂ "معروف" (نیکی، مباح اور بھلائی) میں ہو۔ شریعت نے اطاعت کو غیر مشروط نہیں رکھا بلکہ "معروف" کی شرط سے مقید کیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے مباح امور میں اطاعت کا ضابطہ یوں بیان کیا: "انسان پر والدین کی اطاعت غیرِ معصیت میں لازم ہے، اگرچہ وہ دونوں فاسق ہوں… بشرطیکہ اس میں ان کا فائدہ ہو اور اولاد کا کوئی نقصان نہ ہو۔" (الاختیارات الفقہیہ، باب الوالدین) یعنی مباح امور میں اصل یہی ہے کہ ان کی بات مانی جائے؛ انکار صرف وہاں ہے جہاں گناہ ہو، ظلم ہو یا اولاد کا واضح ضرر ہو۔
عُقوق (نافرمانی و ایذا)
لغت میں "عَقّ" کا معنی ہے پھاڑنا اور کاٹنا۔ شریعت میں والدین کا دل دکھانا، ان سے گستاخی کرنا، ان کی جائز ضروریات پوری نہ کرنا یا ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرنا "عقوق" ہے، جسے نبی ﷺ نے اکبر الکبائر (سب سے بڑے گناہوں) میں شمار فرمایا۔ (صحیح بخاری: 5976) لیکن ان کے کسی غیر شرعی یا ظالمانہ حکم کو شائستگی سے تسلیم نہ کرنا "عقوق" نہیں، جیسا کہ ائمۂ سلف نے تصریح کی ہے۔
خلاصہ ایک جملے میں: بِرّ ہر حال میں، طاعت معروف میں، اور عقوق کسی حال میں نہیں۔
- 4. قرآنی استدلال: حدود خود قرآن نے کھینچیں
قرآنِ مجید نے جہاں والدین کے حقوق کو توحید کے فوراً بعد ذکر فرمایا، وہیں ساتھ ہی حدود بھی واضح کر دیں۔
الف) شرک و معصیت میں عدمِ اطاعت، مگر دنیا میں حسنِ سلوک
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّنکتۂ تدبر: شرک پر مجبور کرنے کی انتہائی صورت میں بھی فرمایا "فَلَا تُطِعْهُمَا" (ان کا حکم نہ مانو) مگر ساتھ ہی "وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا" (دنیا میں حسنِ سلوک جاری رکھو)۔ لفظ "جَاهَدَاكَ" بتا رہا ہے کہ وہ پوری کوشش، دباؤ اور زور لگائیں گے، اس کے باوجود تعلق نہیں توڑنا۔ ثابت ہوا کہ احترام اور خدمت ایک چیز ہے اور ہر بات پر سرِ تسلیم خم کرنا بالکل دوسری چیز۔ اور جب شرک جیسے بڑے جرم کے مطالبے پر بھی حسنِ سلوک ساقط نہیں ہوا تو چھوٹے اختلافات پر ناراض ہو کر قطع تعلق کر لینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
ب) انصاف کے سامنے والدین کی بھی رعایت نہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَنْ تَعْدِلُوایہ آیت واشگاف اعلان کرتی ہے کہ اگر والدین کسی پر ظلم کر رہے ہوں، خواہ وہ بہو ہو، بیٹی ہو، کوئی بھائی ہو یا کوئی اجنبی، تو بیٹے پر فرض ہے کہ حق اور انصاف کا ساتھ دے، والدین کے ظلم کا آلۂ کار نہ بنے۔ اور یاد رکھیے، والدین کو ظلم سے روکنا بھی ان کی خیرخواہی ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کی مدد کرو، ظالم ہو یا مظلوم… ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روک دو۔" (صحیح بخاری: 2444) جب ایک عام بھائی کو ظلم سے روکنا اس کی مدد ہے تو ماں باپ کو قیامت کے حساب سے بچانا تو سب سے بڑی خدمت ہے۔
ج) گھروں کی پرائیویسی: قرآن کا اپنا نظام
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْقرآن نے گھر کے اندر بھی، نابالغ بچوں اور خادموں تک کے لیے تین اوقات میں اجازت لینا لازم کیا، اور فرمایا کہ بالغ ہو جائیں تو ہر وقت اجازت لیں۔ (النور: 59) اسی طرح فرمایا: "اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔" (النور: 27) جو دین کمرے کے دروازے پر دستک کا ادب سکھاتا ہے، وہ میاں بیوی کی نجی زندگی کو کسی کی بے جا مداخلت کے حوالے کیسے کر سکتا ہے؟ لہٰذا "حدود" کا تصور مغرب سے درآمد شدہ نہیں، قرآن کا اپنا نظام ہے۔
- 5. نبوی احادیث اور فقہی ضوابط
رسول اللہ ﷺ نے اس توازن کو چند واضح اصولوں میں ڈھال دیا:
ضابطہ 1: اطاعت صرف معروف میں
«إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ»اس حدیث کا پس منظر بھی سبق آموز ہے: ایک امیرِ لشکر نے غصے میں اپنے ساتھیوں کو آگ جلا کر اس میں کود جانے کا حکم دیا۔ کچھ لوگ تیار ہو گئے، کچھ نے کہا: ہم نے تو آگ ہی سے بچنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے! جب بات نبی ﷺ تک پہنچی تو فرمایا: "اگر اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے۔" — جب امیر کی اطاعت، جسے حدیث میں بڑی تاکید سے بیان کیا گیا، ظلم و ہلاکت میں جائز نہیں، تو کسی اور کی کیسے ہو سکتی ہے؟
ضابطہ 2: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں
«لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ»(مسند احمد: 1095، شرح السنہ للبغوی: 2455، بسند صحیح)ضابطہ 3: نہ نقصان اٹھانا، نہ نقصان پہنچانا
«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»(سنن ابن ماجہ: 2340، موطا امام مالک)
اگر والدین کا کوئی فیصلہ یا مداخلت کسی کی ازدواجی زندگی، بنیادی حقوق یا جائز معاشی خودمختاری کو تباہ کر رہی ہو تو وہ "ضرر" کے دائرے میں آتی ہے جس کے ازالے کا شریعت حکم دیتی ہے۔
ضابطہ 4: خرچ کی ترتیب
نبی ﷺ نے فرمایا: "اپنی ذات سے شروع کرو، اس پر خرچ کرو؛ جو بچ جائے وہ تمہارے گھر والوں کے لیے، جو گھر والوں سے بچ جائے وہ تمہارے رشتہ داروں کے لیے۔" (صحیح مسلم: 997) اور
فرمایا: « عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ".»توجہ رہے: محتاج والدین کا نفقہ بھی بیٹے پر اسی طرح واجب ہے جیسے بیوی بچوں کا۔ لہٰذا نہ یہ جائز ہے کہ ماں باپ کی دوا کے پیسے نہ ہوں اور بیٹا بیوی کے شوق پورے کرتا پھرے، اور نہ یہ جائز ہے کہ بیوی بچے فاقوں میں ہوں اور تنخواہ پوری کی پوری کسی اور کے حوالے کر دی جائے۔ "فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ"۔
ضابطہ 5: ظالمانہ بددعا قبول نہیں ہوتی
نبی ﷺ نے فرمایا: "بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔" (صحیح مسلم: 2735) اس ضابطے کی تفصیل اشکالات کے باب میں آئے گی۔
- 6. سیرتِ انبیاء، سیرتِ طیبہ اور آثارِ صحابہ سے عدل و حکمت کی مثالیں
واقعہ 1: سیدنا ابراہیم علیہ السلام: احسن معذرت کا قرآنی نمونہ
اگر کوئی پوچھے کہ باپ کی بات نہ ماننی پڑے تو کیسے نہ مانی جائے؟ تو قرآن نے اس کا جواب ایک مکمل مکالمے کی صورت میں دیا ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ کا باپ آزر بت تراش اور بت پرست تھا۔ سورۂ مریم میں ابراہیمؑ کی گفتگو سنیے:
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ… يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَٰنِباپ نے جواب میں سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور گھر سے نکل جانے کا حکم دیا۔ (مریم: 46) اب بیٹے کا جواب سنیے:
قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّااس مکالمے سے "احسن معذرت" کے سات اسباق ملتے ہیں:
· چار مرتبہ "يَا أَبَتِ" (اے میرے پیارے ابا جان) — اختلاف کی ہر بات محبت کے لفظ سے شروع کی۔
· "إِنِّي أَخَافُ" — اختلاف کی بنیاد غصہ نہیں، باپ کے انجام کی فکر بتائی۔
· دلیل دی، طعنہ نہیں دیا؛ "آپ جاہل ہیں" نہیں کہا بلکہ "مجھے وہ علم ملا جو آپ کو نہیں ملا"۔
· دھمکی کے جواب میں دھمکی نہیں، "سَلَامٌ عَلَيْكَ"۔
· موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے: "وَأَعْتَزِلُكُمْ" (مریم: 48)۔
· رشتہ نہیں توڑا: دعا کا وعدہ کیا۔
· آواز، لہجہ، الفاظ سب ادب میں ڈوبے ہوئے، مگر حق پر ثابت قدم۔
یہی وہ نمونہ ہے جسے اللہ نے فرمایا: "قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ" (الممتحنہ: 4)۔
واقعہ 2: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور والدہ کا جذباتی دباؤ
جب حضرت سعدؓ نے اسلام قبول کیا تو ان کی والدہ حمنہ بنت سفیان نے قسم کھا لی کہ جب تک سعد دین نہیں چھوڑتا، نہ اس سے بات کروں گی، نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی، اور کہا: "تم کہتے ہو اللہ نے تمہیں والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، میں تمہاری ماں ہوں اور تمہیں یہ حکم دیتی ہوں۔" وہ تین دن بھوکی رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں۔ اسی موقع پر سورۂ لقمان کی آیت "وَإِنْ جَاهَدَاكَ…" نازل ہوئی۔
(صحیح مسلم: 1748)
تفسیری روایات میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے کمالِ وقار سے فرمایا: "امی جان! اگر آپ کی سو جانیں ہوں اور ایک ایک کر کے نکلیں، تب بھی میں اپنا دین نہیں چھوڑوں گا؛ چاہیں تو کھائیے، چاہیں تو نہ کھائیے۔" جب ماں نے بیٹے کا پختہ مگر پُروقار موقف دیکھا تو کھانا کھا لیا۔(تفسیر ابن کثیر، سورۃ لقمان: 15؛ بحوالہ طبرانی)
سبق: جذباتی دباؤ (Emotional Blackmail) کا علاج یہ نہیں کہ حق چھوڑ دیا جائے، اور نہ یہ کہ ماں سے بدتمیزی کی جائے؛ علاج یہ ہے کہ نرم لہجے کے ساتھ موقف پختہ رکھا جائے۔ اکثر اوقات یہی پختگی دباؤ کو ختم کر دیتی ہے۔
واقعہ 3: حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ اور مشرکہ ماں
حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں: میری ماں، جو مشرکہ تھیں، (صلح حدیبیہ کے زمانے میں) مجھ سے ملنے آئیں اور کچھ چاہتی تھیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ فرمایا: «نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ» "ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔"(صحیح بخاری: 2620، صحیح مسلم: 1003)
سبق: عقیدے کا اختلاف بھی تعلق اور خدمت کو ساقط نہیں کرتا۔ تو گھریلو انتظام، کھانے پکانے یا رہائش کے اختلاف پر ماں باپ سے بول چال بند کر دینا کتنی بڑی محرومی ہے!
واقعہ 4: باپ کی مرضی اور بیٹی کا نکاح
حضرت خنساء بنت خِدامؓ کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے وہ نکاح رد فرما دیا۔(صحیح بخاری: 5138)
ایک نوجوان لڑکی سیدہ عائشہؓ کے پاس آئی اور کہا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے تاکہ میرے ذریعے اس کی کمتری دور کریں، اور مجھے یہ ناپسند ہے۔ نبی ﷺ نے معاملہ اس کے اختیار میں دے دیا۔ اس نے کہا: "میں نے اپنے والد کا کیا ہوا قبول کر لیا، لیکن میں چاہتی تھی کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ اس معاملے میں باپوں کو (زبردستی کا) کوئی اختیار نہیں۔"(سنن نسائی: 3269، سنن ابن ماجہ: 1874)
سبق: نکاح جیسے بنیادی فیصلے میں والدین کی مشاورت، دعا اور سرپرستی برکت ہے، مگر زبردستی شریعت میں معتبر نہیں۔ اور غور کیجیے کہ اس لڑکی نے حق ثابت ہو جانے کے بعد بھی باپ کا مان رکھا — یہی اعلیٰ ظرفی ہے۔
واقعہ 5: سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمہؓ کا الگ گھر
سیدہ فاطمہؓ کی شادی ہوئی تو سیدنا علیؓ انہیں اپنے الگ گھر میں لے گئے۔ بعد میں نبی ﷺ نے چاہا کہ بیٹی قریب رہے، تو حضرت حارثہ بن نعمانؓ نے اپنا مکان پیش کر دیا اور وہ آپ ﷺ کے قریب منتقل ہو گئے۔ (طبقات ابن سعد) ہمارے نبی ﷺ نے بیٹی کو قریب ضرور رکھا، مگر ان کا گھر الگ تھا، ان کا دروازہ الگ تھا۔ یہ ہے قرب اور حدود کا حسین امتزاج۔
واقعہ 6: حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور طلاق کا حکم
یہ واقعہ اکثر اشکال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس لیے اس پر تفصیلی گفتگو اشکالات کے باب میں کی جائے گی۔
- 7. شادی کے بعد گھریلو معاملات اور حدود: شرعی ضوابط
الف) بیوی کی الگ رہائش کا حق
جمہور فقہاء کا موقف ہے کہ بیوی کا یہ شرعی حق ہے کہ شوہر اسے ایسی رہائش دے جو محفوظ ہو، جس میں اس کی پرائیویسی ہو اور جہاں سسرال کی بے جا مداخلت نہ ہو۔ فقہائے احناف نے صراحت کی ہے کہ اگر بیوی ساس سسر کے ساتھ مشترکہ رہائش پر راضی نہ ہو تو شوہر پر لازم ہے کہ اسے ایسا علیحدہ حصہ دے جس کا اپنا دروازہ اور تالا ہو اور ضروری سہولیات (باورچی خانہ، بیت الخلاء) ہوں، چاہے وہ اسی مکان کا ایک حصہ ہو۔ (بدائع الصنائع، رد المحتار: باب النفقة)
البتہ اگر بیوی خوش دلی سے مشترکہ خاندان میں رہنا قبول کرے تو یہ اس کا احسان اور خاندان کی برکت ہے۔ شریعت مشترکہ خاندان کو حرام نہیں کرتی، وہ صرف یہ کہتی ہے کہ بیوی کی رضامندی اور اس کے حقوق کو پامال نہ کیا جائے۔
ب) سسرال کی خدمت: احسان ہے، فرض نہیں
سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ اسماء بنت ابی بکرؓ اپنے گھروں کا کام خود کرتی تھیں (صحیح بخاری: 5224، 5361)۔ گھر کی نگہداشت عرف کے مطابق بیوی کی ذمہ داری سمجھی گئی ہے، لیکن ساس سسر کی خدمت اکثر فقہاء کے نزدیک اس پر قانوناً لازم نہیں۔ اگر وہ خلوصِ نیت سے کرتی ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے اور شوہر کے دل میں اس کی قدر بڑھاتی ہے؛ مگر اس پر مجبور کرنا، کوتاہی پر طعنے دینا یا اسے نوکرانی سمجھنا کھلا ظلم ہے۔
ج) بیوی کے حقوق کی تاکید
· «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي» — "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (جامع ترمذی: 3895)
· «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا» — "عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت قبول کرو۔" (صحیح بخاری: 5186)
· حجۃ الوداع کے عظیم مجمع میں فرمایا: «فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ» — "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔" (صحیح مسلم: 1218)
جو بہو آپ کے گھر آئی ہے وہ بھی کسی ماں کے جگر کا ٹکڑا ہے، کسی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ جو سلوک آپ اپنی بیٹی کے لیے پسند نہیں کرتے، وہ کسی کی بیٹی سے مت کیجیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" (صحیح بخاری: 13)
د) یہی حدود بیٹی کے والدین پر بھی لاگو ہیں
انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بات صرف لڑکے کے والدین تک محدود نہ رکھی جائے۔ بہت سے گھر لڑکی کے والدین کی مداخلت سے بھی برباد ہوتے ہیں: روزانہ کی فون کالز پر گھر کی ہر بات کی رپورٹ، بیٹی کو شوہر کے خلاف بھڑکانا، معمولی بات پر "واپس آ جاؤ" کہہ دینا۔ قرآن نے میاں بیوی کے جھگڑے میں بھی دونوں خاندانوں سے "حَكَم" (ثالث) بھیجنے کا حکم دیا اور ان کا مقصد بتایا: "إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا" (النساء: 35)۔ دونوں طرف کے بزرگوں کا کردار جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔
ہ) بہو کی ذمہ داری
بیٹیو اور بہنو! آپ کا شوہر آپ کی جنت کا راستہ ہے، اور اس کے ماں باپ اس کی جنت کا دروازہ۔ کبھی اسے اس کے والدین سے کاٹنے کی کوشش نہ کیجیے، ان کی غیبت اور شکایت کو اپنی عادت نہ بنائیے۔ ساس آپ کے لیے ہمیشہ کی محرم ہے، اسے ماں کا درجہ دیجیے۔ "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ" (الرحمن: 60) — جو بہو اپنے سسرال پر احسان کرتی ہے، اللہ اس کے لیے اس کی اپنی اولاد کے دل نرم کر دیتا ہے۔
- 8. شریعت اور خاندانی نفسیات: ہم آہنگی
جدید خاندانی نفسیات (Family Systems Theory) میں ماہرین ایک اصطلاح استعمال کرتے ہیں: "Differentiation of Self" یعنی بالغ اولاد کا اپنے والدین سے محبت اور تعلق رکھتے ہوئے بھی جذباتی طور پر خودمختار ہونا اور اپنے فیصلے خود ذمہ داری سے کرنا۔ اس کے برعکس کیفیت کو "Enmeshment" کہا جاتا ہے، جب خاندان کے بڑے شادی شدہ اولاد کی زندگی کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل — کب سونا ہے، کیا پکانا ہے، کہاں خرچ کرنا ہے — کو کنٹرول کرنے لگیں۔ ماہرینِ ازدواجیات کا عمومی مشاہدہ ہے کہ ایسے گھروں میں رشتے بوجھل ہو جاتے ہیں، میاں بیوی میں تناؤ بڑھتا ہے، اور آخرکار والدین کا احترام بھی کم ہو جاتا ہے؛ جبکہ جہاں نئے جوڑے کو باہمی مشاورت سے فیصلوں کی آزادی دی جائے، وہاں والدین سے تعلق زیادہ دیرپا اور خوشگوار رہتا ہے۔
قرآن نے چودہ سو سال پہلے یہی حکمت ایک جملے میں بیان کر دی: "لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً" (الروم: 21) — نکاح کا مقصد سکون، مودت اور رحمت ہے؛ اور سکون وہیں ہوتا ہے جہاں حدود کا احترام ہو۔ محبت کے ساتھ حدود قائم کرنا بے ادبی نہیں بلکہ رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کی حکمت ہے۔
- 9. کب اور کیسے شائستہ انداز میں کہا جائے کہ "اب بس"؟
انکار کب لازم ہے؟
جب والدین دنیاوی معاملات میں حد سے آگے بڑھنے لگیں، مثلاً:
· کسی گناہ کا حکم دیں: سود، رشوت، جھوٹ، بے پردگی، کسی کی حق تلفی، نماز چھڑوانا، بہن کا وراثتی حصہ روکنا۔
· بیٹے کی جائز مالی خودمختاری چھین کر اس کے بیوی بچوں کو فاقوں یا تنگ دستی میں دھکیلیں۔
· بہو پر ظلم، تذلیل، مارپیٹ یا اس کے والدین کو برا بھلا کہنے کا تقاضا کریں۔
· بلاوجہ طلاق یا علیحدگی کا دباؤ ڈالیں۔
· میاں بیوی کے نجی معاملات اور خلوت میں بے جا مداخلت کریں۔
· اولاد کو اپنی جائز ملازمت، تعلیم یا رزقِ حلال کے ذرائع سے بلاوجہ روکیں جس سے واضح نقصان ہو۔
انکار کب جائز نہیں؟
یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے: جو بات مباح ہو، اس میں والدین کا فائدہ ہو اور آپ کا کوئی حقیقی نقصان نہ ہو، اس میں ان کی بات ماننا آپ پر لازم ہے، خواہ آپ کا دل نہ چاہے۔ ہر ناپسندیدگی "ضرر" نہیں، ہر روک ٹوک "مداخلت" نہیں، اور ہر مشورہ "کنٹرول" نہیں۔ اپنی انا کو "شرعی حدود" کا نام دینا بھی خیانت ہے۔
احسن انداز میں معذرت کا سلیقہ
· «وَلَا تَنْهَرْهُمَا» کا دھیان: آواز نیچی رکھیں، لہجے میں غصہ یا تکبر نہ ہو۔ اختلاف ہو سکتا ہے، گستاخی نہیں۔
· وقت اور جگہ کا انتخاب: انکار سب کے سامنے نہیں، تنہائی میں کیجیے؛ غصے کے وقت نہیں، سکون کے وقت کیجیے۔
· پہلے سنیے: ان کی بات پوری توجہ سے سنیں، ان کے خدشے کو تسلیم کریں — "ابا جان، میں سمجھتا ہوں آپ کو میری فکر ہے۔"
· شریکِ حیات کو ڈھال نہ بنائیں: "امی! آپ کی بہو نہیں مانتی" کہنا بزدلی ہے اور ماں بہو کے درمیان نفرت کا بیج ہے۔ خود آگے بڑھ کر کہیے: "امی جان! یہ میرا فیصلہ ہے اور میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں۔"
· گھر کی بات گھر میں: بیوی کے سامنے والدین کی برائی نہ کیجیے اور والدین کے سامنے بیوی کی شکایت نہ کیجیے۔ آپ دونوں کے درمیان پل ہیں، دیوار نہیں۔
· محبت کے ساتھ انکار کا فارمولا (Soft No): "ابا جان! میری جان، مال اور عزت آپ پر قربان ہے، لیکن اس خاص معاملے میں مجھے شریعت اور حالات کی وجہ سے عذر ہے۔ آپ مجھ سے کوئی اور خدمت لے لیجیے، مگر اس پر مجبور نہ فرمائیے۔"
· متبادل پیش کیجیے: صرف "نہیں" نہ کہیے، "یہ نہیں، مگر یہ کر سکتا ہوں" کہیے۔
· کسی دانا بزرگ کو بیچ میں لائیے: خاندان کے کسی ایسے بزرگ یا عالم سے بات کروائیے جس کی بات والدین مانتے ہوں۔
· خدمت کا گراف بڑھا دیجیے: جس معاملے میں معذرت کریں، اس کے فوراً بعد ان کی ذاتی خدمت، تحائف اور ان کے پاس بیٹھنے کا وقت بڑھا دیں، تاکہ دل میں یہ وسوسہ نہ آئے کہ بیٹا ہاتھ سے نکل گیا۔
· دعا: ابراہیمؑ کی طرح "سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي" — جس سے اختلاف ہو اس کے لیے تہجد میں دعا کیجیے؛ دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
- 10. اشکالات اور ان کے جوابات
اشکال 1: نبی ﷺ نے ابن عمرؓ کو باپ کے کہنے پر طلاق کا حکم دیا تھا
حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے مجھے محبت تھی اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے طلاق کا حکم دیا، میں نے انکار کیا۔ معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقِ امْرَأَتَكَ» (جامع ترمذی: 1189، سنن ابی داود: 5138)
جواب: امام احمد بن حنبلؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میرے والد مجھے بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتے ہیں۔ امام نے فرمایا: "لَا تُطَلِّقْهَا" (طلاق مت دو)۔ اس نے کہا: کیا عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو طلاق کا حکم نہیں دیا تھا؟ امام احمدؒ نے فرمایا:«حَتَّى يَكُونَ أَبُوكَ مِثْلَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»"(اس وقت طلاق دینا) جب تمہارا باپ عمرؓ جیسا ہو جائے۔"(الآداب الشرعیہ لابن مفلح، فصل فی طاعۃ الوالدین)
یعنی عمر فاروقؓ وہ ہستی ہیں جن کی رائے کے موافق کئی بار وحی نازل ہوئی؛ وہ نفسانی خواہش یا ذاتی رنجش سے فیصلہ نہیں کرتے تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ حکم خود رسول اللہ ﷺ نے معاملہ سن کر دیا، جو کسی شرعی مصلحت پر مطلع تھے۔ آج کا کوئی باپ نہ عمرؓ ہے، نہ اس پر وحی کی تصدیق ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے پوچھا گیا کہ ماں بیٹے کو بیوی طلاق دینے کا حکم دے تو؟ فرمایا: "اس کے لیے جائز نہیں کہ بیوی کو طلاق دینے میں ماں کی اطاعت کرے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اور بیوی کو طلاق دینا ماں کے ساتھ حسنِ سلوک میں شامل نہیں۔" (مجموع الفتاویٰ: 33/112)
خلاصہ: اگر والدین کسی واضح شرعی وجہ سے کہیں — مثلاً بیوی کی بدکرداری، بے دینی یا ایسی بات جس کا ثبوت ہو — تو ان کی بات پر غور کرنا چاہیے؛ لیکن محض ناپسندیدگی، ضد یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر طلاق کا مطالبہ ماننا واجب نہیں، بلکہ یہ ایک بے قصور عورت پر ظلم ہوگا۔
اشکال 2: ابراہیمؑ نے اسماعیلؑ کو "دہلیز بدلنے" کا کہا تھا
صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیمؑ اسماعیلؑ کے گھر آئے، اسماعیلؑ موجود نہ تھے؛ ان کی بیوی نے تنگ دستی اور سختی کی شکایتیں کیں اور ناشکری کا اظہار کیا۔ ابراہیمؑ نے پیغام دیا کہ "اپنے دروازے کی دہلیز بدل دو۔" اسماعیلؑ نے اسے طلاق دے دی۔ پھر دوسری بیوی سے ملے جس نے اللہ کا شکر ادا کیا، تو پیغام دیا: "اپنی دہلیز کو قائم رکھو۔" (صحیح بخاری: 3364)
جواب: (1) حکم دینے والے ایک نبی تھے، جن کا فیصلہ وحی کی رہنمائی میں تھا۔ (2) وجہ ذاتی رنجش نہیں بلکہ ناشکری اور شوہر کی ناقدری تھی، یعنی دینی و اخلاقی وجہ۔ (3) اسی واقعے کا دوسرا حصہ ثابت کرتا ہے کہ جب بیوی نیک اور شکرگزار تھی تو اسی باپ نے رشتہ "قائم رکھنے" کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ معیار باپ کی پسند ناپسند نہیں، بیوی کا دین و اخلاق ہے۔
اشکال 3: حضرت ابو الدرداءؓ نے ماں کے کہنے پر طلاق کو جنت کا دروازہ کہا
ایک شخص نے حضرت ابو الدرداءؓ سے کہا: میری ماں مجھے بیوی کو طلاق دینے کا کہتی ہے۔ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہو تو اس دروازے کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو۔" (جامع ترمذی: 1900)
جواب: غور کیجیے، ابو الدرداءؓ نے "طلاق دے دو" کا فتویٰ نہیں دیا، بلکہ والدین کا مقام یاد دلا کر فیصلہ سائل کی دیانت پر چھوڑ دیا۔ والدین کی حفاظت کا مطلب ان کی رضا اور خدمت ہے، اور اگر ان کی ناراضی بیوی کی کسی حقیقی خرابی پر ہو تو ان کی بات وزن رکھتی ہے۔ لیکن جہاں مطالبہ ظلم پر مبنی ہو، وہاں "لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ" اور ابن تیمیہؒ کا فتویٰ اوپر گزر چکا۔ بیٹا ماں کو منا کر، خدمت بڑھا کر "دروازے کی حفاظت" بھی کر سکتا ہے اور بیوی پر ظلم سے بھی بچ سکتا ہے۔
اشکال 4: "أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ" — تو بیٹے کا سب کچھ باپ کا ہے؟
نبی ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: "تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔" (سنن ابن ماجہ: 2291، سنن ابی داود: 3530)
جواب: یہ حدیث باپ کے عظیم حق اور اس کی ضرورت کے وقت بیٹے کے مال سے لینے کے جواز کو بیان کرتی ہے، ملکیت کے قانونی انتقال کو نہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر بیٹے کا مال واقعی باپ کی ملکیت ہوتا تو بیٹے کی وفات پر قرآن باپ کو صرف چھٹا حصہ (السدس) نہ دیتا (النساء: 11)، اور نہ بیٹے کی بیوی بچوں کو وارث بناتا۔ امام ابن قدامہؒ وغیرہ فقہاء نے باپ کے لینے کی شرائط لکھیں: (1) اس سے بیٹے کو ضرر نہ ہو، (2) وہ چیز نہ لے جس کی بیٹے کو اپنی ضرورت ہو، (3) ایک بیٹے کا مال لے کر دوسرے کو نہ دے۔ (المغنی، کتاب الہبہ) لہٰذا بیٹے کی پوری تنخواہ لے کر اس کے بیوی بچوں کو محتاج کر دینا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
اشکال 5: "رب کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے" — تو انکار کیسے؟
جواب: یہ حدیث (ترمذی: 1899) اسی دائرے میں ہے جس میں اطاعت ہے، یعنی معروف میں۔ اگر والد حق پر ناراض ہو تو اس کی ناراضی رب کی ناراضی ہے؛ لیکن اگر وہ اس بات پر ناراض ہو کہ بیٹے نے سود نہیں لیا یا بہو پر ہاتھ نہیں اٹھایا، تو کیا معاذ اللہ رب بھی اس پر ناراض ہوگا؟ ہرگز نہیں! اللہ ظلم پر راضی نہیں ہوتا: "وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ" (الزمر: 7)۔ نصوص کو ایک دوسرے کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، ایک کو لے کر باقی کو چھوڑا نہیں جاتا۔
اشکال 6: ماں باپ کی بددعا تو لگ جاتی ہے، جیسے جریج کو لگی
جریج ایک عابد تھے، نفل نماز میں تھے کہ ماں نے آواز دی۔ انہوں نے دل میں کہا: "اے اللہ! میری ماں اور میری نماز!" اور نماز جاری رکھی۔ تین دن ایسا ہوا تو ماں نے بددعا کی اور وہ آزمائش میں پڑے۔ (صحیح بخاری: 3436، صحیح مسلم: 2550)
جواب: (1) جریج نفل عبادت میں تھے اور ماں کی پکار کا جواب دینا اس وقت ان پر زیادہ مقدم تھا؛ علماء نے لکھا کہ اگر وہ فقیہ ہوتے تو جان لیتے کہ ماں کی پکار کا جواب دینا نفل نماز سے افضل ہے۔ یعنی یہ واقعہ ایک جائز اور معروف پکار کو نظرانداز کرنے کا ہے، ظلم سے انکار کا نہیں۔ (2) اسی واقعے کے آخر میں اللہ نے جریج کو عزت دی اور ان کی براءت ظاہر فرمائی۔ (3) والدین کی دعا بے شک مقبول ہے (سنن ابی داود: 1536)، مگر نبی ﷺ نے ضابطہ دے دیا: دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ "گناہ یا قطع رحمی" کی نہ ہو (صحیح مسلم: 2735)۔ ظلم میں ساتھ نہ دینے پر کی گئی بددعا ظلم ہے، اور اللہ ظالم کی بددعا مظلوم کے حق میں قبول نہیں کرتا۔
ہاں! اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ والدین کی بددعا کو ہلکا سمجھا جائے۔ عقلمند وہ ہے جو حق پر قائم رہتے ہوئے بھی والدین کو اس حد تک ناراض ہی نہ ہونے دے کہ ان کی زبان پر بددعا آئے۔
اشکال 7: حدود کی بات مغربی سوچ ہے، ہمارے بڑے تو سب برداشت کرتے تھے
جواب: حدود کا تصور قرآن کا ہے: اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم (النور: 27، 58-59)، بیوی کا الگ رہائش کا حق، نکاح میں رضامندی کی شرط، اور "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ"۔ مغربی سوچ تو یہ ہے کہ والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ہوم بھیج دو؛ اسلامی سوچ یہ ہے کہ ان کے آگے "اُف" بھی نہ کرو اور ساتھ ساتھ کسی پر ظلم بھی نہ ہونے دو۔ رہا "بڑوں کا برداشت کرنا"، تو صبر بڑی فضیلت ہے، لیکن کسی دوسرے پر ہوتے ظلم کو برداشت کرانا صبر نہیں، ظلم میں شرکت ہے۔
اشکال 8: والدین نے پالا پوسا، اس لیے ہمارے ہر فیصلے کا حق ان کا ہے
جواب: پرورش کا بدلہ "بِرّ" ہے، ملکیت نہیں۔ قرآن نے پرورش کا ذکر کر کے دعا اور عاجزی کا حکم دیا: "رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا"؛ یہ نہیں کہا کہ اپنی زندگی کے سارے فیصلے ان کے سپرد کر دو۔ اور خود نبی ﷺ نے خنساءؓ کا وہ نکاح رد کیا جو باپ نے زبردستی کیا تھا۔ اگر پالنے سے فیصلے کا مطلق حق مل جاتا تو یہ نکاح رد نہ ہوتا۔
- 11. معاشرتی بگاڑ: دو انتہائیں اور اعتدال کی راہ
افراط (غلو اور ظلم)
والدین کو گویا خدا کا درجہ دے کر ان کے ہر جائز و ناجائز حکم پر بیوی بچوں کا گلا گھونٹ دینا، اور اسے "فرمانبرداری" سمجھنا۔ ماں کے کہنے پر بیوی کو مارنا، اس کا مہر و حق روکنا، اسے میکے جانے سے بلاوجہ روکنا۔
تفریط (بے رخی اور نافرمانی)
ذرا سی روک ٹوک پر والدین کو اولڈ ہوم بھیج دینا، بدتمیزی کرنا، شادی کے بعد والدین سے قطع رحمی کر لینا، مہینوں ان کا حال نہ پوچھنا، بیوی کے کہنے پر ماں سے منہ موڑ لینا۔
اعتدال (سلف کا منہج)
والدین کا ادب، اکرام، مالی کفالت اور دائمی حسنِ سلوک؛ ساتھ ہی حدود کی حفاظت، عدل کا قیام اور ظلم میں عدمِ شرکت۔
ہمیں منبر و محراب سے یہ سچی بات کہنی ہوگی: والدین کی خوشنودی کبھی کسی مظلوم کی آہ اور حق تلفی کے ملبے پر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اور اسی طرح بیوی کی محبت کبھی ماں باپ کے آنسوؤں کی قیمت پر نہیں خریدی جا سکتی۔
- 12. منہجِ سلف کی روشنی میں فقہی خلاصہ
· دائمی وجوب: والدین کا احترام، ان کے آگے عاجزی، ان کی ضرورت کے وقت ان پر خرچ کرنا اور ان سے نرمی زندگی بھر واجب ہے، چاہے وہ کافر ہوں۔
· مشروط اطاعت: اطاعت صرف معروف میں ہے؛ مباح میں ان کی بات ماننا لازم ہے جب تک اولاد کا حقیقی ضرر نہ ہو؛ گناہ، ظلم اور حق تلفی میں اطاعت نہیں۔
· عدمِ عقوق: حق کی خاطر شائستہ انکار عقوق نہیں، بشرطیکہ تکبر، بدزبانی اور قطع تعلق سے پاک ہو۔
· ہر حق دار کا حق: والدین، بیوی، اولاد اور اپنی جان، سب کے حقوق اپنی جگہ ہیں؛ ایک کا حق دوسرے کو دینا ظلم ہے۔
· بیوی کی رہائش اور عزت: الگ، باپردہ رہائش اس کا حق ہے؛ سسرال کی خدمت اس کا احسان ہے۔
· بعد از وفات بِرّ: نبی ﷺ نے فرمایا: "سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں سے حسنِ سلوک کرے۔" (صحیح مسلم: 2552) والدین کے بعد ان کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور ان کے رشتوں کو جوڑنا جاری رہتا ہے۔
- 13. حاصلِ کلام و عملی پیغام
میرے بھائیو اور بزرگو!والدین کے لیے پیغام: اپنی اولاد کو شادی کے بعد اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھیے، انہیں سانس لینے دیجیے۔ انہوں نے نیا چمن بسایا ہے؛ اس پر باغبان کی شفقت رکھیے، کنٹرول اور شک کا پہرہ نہیں۔ یاد رکھیے، آپ کی بہو کل آپ کے پوتوں کی ماں ہے؛ جو بیج آج اس کے دل میں بوئیں گے، وہی کل آپ کے بڑھاپے میں کاٹیں گے۔
بیٹوں کے لیے پیغام: ماں باپ تمہاری جنت ہیں۔ ان کے بڑھاپے کا سہارا بنو، ان کے آگے کبھی آنکھیں نہ دکھاؤ۔ اگر کسی بات سے اختلاف ہو تو ادب کے دائرے میں رہ کر، ہاتھ چوم کر عذر پیش کرو۔ اور اپنی بیوی کی امانت میں خیانت نہ کرو؛ وہ تمہارے بھروسے پر اپنا گھر چھوڑ کر آئی ہے۔ ماں اور بیوی دونوں کے بیچ عدل کرنا ہی مردانگی ہے۔
بیٹیوں اور بہوؤں کے لیے پیغام: شوہر کو اس کے والدین سے کاٹنے والی نہ بنیے، جوڑنے والی بنیے۔ اپنی ساس کو ماں سمجھیے، اور اپنے میکے کو اپنے نئے گھر کے فیصلوں میں دخیل نہ ہونے دیجیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کا سچا خادم، بیوی بچوں کا عادل نگہبان، اور ہر حق دار کو اس کا حق دینے والا بنائے۔