| 
|
تازہ ترین:

جامع زکوٰۃ کیلکولیٹر

لائیو مارکیٹ ریٹس، قرآن وحدیث اور کبار علماء کی آراء کی روشنی میں اپنے اموالِ زکوٰۃ کا درست شرعی حساب معلوم کریں۔

فقہی موقف کا انتخاب کریں

اثاثہ جات کا اندراج آج کے نرخ لائے جا رہے ہیں...

کیا آپ کے پاس مویشی (بھیڑ، گائے، اونٹ) ہیں؟

مویشیوں کی زکوٰۃ کا حساب مالیت کے بجائے تعداد پر ہوتا ہے۔

فقہی آراء اور رہنمائی

1. موقفِ اول (الگ الگ نصاب)

امام شافعیؒ، امام احمدؒ اور علمائے اہل حدیث کے ایک طبقے کے نزدیک سونا اور چاندی الگ اجناس ہیں۔ ان کے ہاں نقدی اور مالِ تجارت کو چاندی کے ساتھ ملا کر ایک نصاب گنا جائے گا، جبکہ سونے کا 7.5 تولہ کا نصاب الگ گنا جائے گا۔

2. موقفِ دوم (سب کو یکجا کرنا - راجح)

امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، اللجنۃ الدائمۃ، شیخ ابن بازؒ اور شیخ ابن عثیمینؒ کے نزدیک چونکہ سب کی علت 'ثمنیت' ہے، اس لیے کیش، سونا، چاندی اور مالِ تجارت سب جمع ہوں گے۔ دورِ حاضر کے معاشی حقائق کے پیشِ نظر یہی موقف مبنی بر انصاف اور غریبوں کے حق میں ہے۔

سونے اور چاندی کا نصاب

  • سونا: 7.5 تولہ (87.48 گرام)
  • چاندی: 52.5 تولہ (612.36 گرام)

سرمایہ کاری (Investment)

شیئرز (Shares): اگر نفع کمانے کے لیے ہیں تو موجودہ مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ ہوگی۔

پراپرٹی (Property): کرائے پر دیے گئے مکان کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں، صرف بچنے والے کرائے پر ہوگی۔ فروخت کے لیے لیے گئے پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو پر زکوٰۃ ہوگی۔

جدید فارمنگ (Dairy/Poultry): ڈیری فارم کے جانوروں (جو دودھ کے لیے ہوں) پر زکوٰۃ نہیں، صرف دودھ کی سالانہ بچت (نقدی)پر ہوگی۔ گوشت یا فروخت کے لیے پالے گئے جانور اور مرغیاں خالص مالِ تجارت ہیں، ان کی کل موجودہ مارکیٹ ویلیو پر 2.5 فیصد زکوٰۃ ہوگی۔ جبکہ زرعی پیداوار پر عشر اور روایتی چراگاہ کے مویشیوں پر تعداد کے حساب سے زکوٰۃ ہے۔

جانوروں کا نصاب (مختصراً)

  • بکریاں: 40 پر 1 بکری
  • گائے: 30 پر ایک بچھڑا
  • اونٹ: 5 پر 1 بکری
  • جانوروں کا حساب مالیت کے بجائے تعداد پر ہوتا ہے اور یہ ہر موقف میں نقدی سے الگ شمار ہوتے ہیں۔