| 
|
تازہ ترین:

الرحمٰن ڈیجیٹل اسلامک سنٹر

آپ کے شرعی اور روحانی مسائل کا حل

بانی و نگران:حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہری
فتویٰ نمبر:
2
تاریخ:
29 ستمبر 2026ء | 16 ربیع الثانی 1448ھ
زمرہ:
فقہ و فتاویٰ - زکوٰۃ و صدقات
مفتی:
حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہری

پراویڈنٹ فنڈ ۔جی پی فنڈ پر زکوٰۃ کی ادائیگی کا شرعی حکم

السلام علیکم مفتی صاحب، سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں ملازمین کا پراویڈنٹ فنڈ جبراً یا اختیاری کاٹا جاتا ہے۔ کیا اس جمع شدہ فنڈ پر ملازم کو دورانِ ملازمت ہر سال زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی یا ریٹائرمنٹ کے بعد جب رقم قبضہ میں آئے تب زکوٰۃ واجب ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب وباللہ التوفیق:

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں زکوٰۃ کے وجوب کے لیے مال پر ملکِ تام (پوری ملکیت اور تصرف کا اختیار) شرط ہے۔

۱۔ جبری پراویڈنٹ فنڈ (Compulsory GP Fund):

چونکہ اس رقم پر ملازم کا فی الوقت کوئی تصرف یا ملکیت کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ بوقتِ ضرورت اسے نکالنے پر قادر ہوتا ہے، لہٰذا اس پر دورانِ ملازمت ہر سال زکوٰۃ ادا کرنا واجب نہیں۔ جب یہ رقم ریٹائرمنٹ یا استعفے کے بعد ملازم کے ہاتھ میں وصول ہوجائے اور وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہو، تو وصول شدہ رقم کو دیگر اموال کے ساتھ ملا کر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

۲۔ اختیاری پراویڈنٹ فنڈ (Voluntary Fund):

وہ رقم جو ملازم اپنی مرضی اور رضا مندی سے اپنی تنخواہ میں سے کٹواتا ہے، چونکہ وہ اپنے اختیار سے اسے جمع کرواتا ہے، لہٰذا اس کٹوتی والے حصے پر احتیاط اسی میں ہے کہ ہر سال زکوٰۃ کا حساب رکھا جائے یا وصولی کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ نکالی جائے۔

  1. فتاویٰ ہندیہ، کتاب الزکوۃ، الباب الاول، ج: ۱، ص: ۱۷۲
  2. رد المحتار علی الدر المختار، باب زکوٰۃ المال، ج: ۲، ص: ۲۶۰
  3. بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ، از مفتی تقی عثمانی، ج: ۱، ص: ۱۲۵

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہریسرپرست اعلیٰ و رئیس دار الافتاءالرحمٰن ڈیجیٹل اسلامک سنٹر
muftiportal.org | mianatiqrehman1988@gmail.com | 123456789

تبصرے اور سوالات

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ پہلا تبصرہ کریں!