| 
|
تازہ ترین:

الرحمٰن ڈیجیٹل اسلامک سنٹر

آپ کے شرعی اور روحانی مسائل کا حل

بانی و نگران:حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہری
فتویٰ نمبر:
3
تاریخ:
1 اکتوبر 2026ء | 18 ربیع الثانی 1448ھ
زمرہ:
ٹیسٹنگ
مفتی:
حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہری

حاملہ سے نکاح کے بعد 18 سال بعد شوہر کو معلوم ہو کہ نکاح کے وقت بیوی کسی دوسرے مرد سے ناجائز حمل سے تھی ،تو اس کا کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ: ایک شخص کی شادی 2008ء (تقریباً 18 سال قبل) میں ہوئی۔ اس کے ہاں 4 بچے (دو بیٹیاں عمر 15 اور 14 سال، دو بیٹے عمر 12 اور 10 سال) پیدا ہوئے۔ اب 18 سال بعد شوہر کو معلوم ہوا کہ بوقتِ نکاح اس کی بیوی کسی اور سے ناجائز حمل (زنا کی وجہ سے) سے تھی۔ نکاح کے 15، 20 دن بعد لڑکی کی ماں اور ساس نے مل کر وہ ناجائز حمل ضائع کروا دیا تھا اور شوہر کو اس پورے معاملے سے بے خبر رکھا گیا۔ شوہر نے یہ حقیقت جاننے اور ایک مفتی صاحب کا یہ بیان سننے کے بعد کہ حاملہ عورت سے نکاح نہیں ہوتا ، طلاق دیے بغیر اپنی بیوی سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ تیرا میرا نکاح ہی نہیں ہوا کیونکہ تو بوقتِ نکاح حمل سے تھی۔ اب چار بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ دونوں دوبارہ اکٹھے ہونا چاہتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ، نصوصِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ اور منہجِ سلف (صحابہ و محدثین) کی روشنی میں وسعت اور تیسیر (آسانی) کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی اور مدلل رہنمائی فرمائیں کہ ان کے 18 سالہ تعلق، بچوں کے نسب، شوہر کے الفاظ اور آئندہ اکٹھے رہنے کا کیا شرعی حل ہے؟(مولانا ابرار ظہیر صاحب)

الجواب

بعونِ الوہاب، ومنہ الصدق والصواب

اس انتہائی حساس خاندانی مسئلے میں، جہاں 18 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، چار بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے اور گھر ٹوٹنے کے درپے ہے، شریعتِ اسلامیہ کے مقاصد (مقاصدِ شریعہ) خاندان کو بچانے، پردہ پوشی کرنے اور حلال راستے کو کشادہ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ قرآن و سنت، آثارِ صحابہ اور سلف صالحین کے اصولوں میں اس مسئلے کا انتہائی متوازن، مدلل اور وسعت (flexibility) پر مبنی حل موجود ہے۔اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی، منطقی اور

شرعی جائزہ درج ذیل ہے:

  • 1. زانیہ اور حاملہ من الزنا سے نکاح کا شرعی حکم

یہ درست ہے کہ بعض اہلِ علم جیسے حنابلہ اور بعض اہلِ حدیث علماء کے نزدیک حاملہ من الزنا کا نکاح باطل ہے۔ شوہر نے جس مفتی صاحب کا بیان سنا، وہ اسی مسلک پر مبنی تھا۔ لیکن اسلامی فقہ اور منہجِ سلف میں اس مسئلے پر دوسری مستند، مضبوط اور وسیع رائے سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما، امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہؒ کی موجود ہے۔

اس وسیع موقف کے مطابق زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کرنا شرعاً درست (Valid) اور منعقد ہو جاتا ہے۔

قرآں مجید میں اس کی دلیل ہے۔ سورۃ النساء (آیت 23) میں محرمات (جن عورتوں سے نکاح حرام ہے) کی فہرست بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے

ایک جامع اصول دیا:

﴿وَأُحِلَّ

لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ﴾ (النساء: 24) اور ان (مذکورہ محرمات) کے علاوہ باقی سب عورتیں تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں۔ چونکہ زنا سے حاملہ عورت محرمات کی قرآنی فہرست میں شامل نہیں، لہٰذا وہ نکاح کے لیے حلال ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے معاشرے کو پاکیزہ رکھنے اور بے نکاحی عورتوں کا گھر بسانے کا

عمومی حکم دیا ہے:

﴿وَأَنكِحُوا
الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾النور: 32
ترجمہ: اور تم میں سے جو بے نکاح

ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہوں، ان کے نکاح کر دو۔

لفظ الأیامیٰ (بے نکاح عورتیں) عام ہے۔ زانیہ عورت بھی اسی عموم میں داخل ہے۔ شریعت نے زنا کی سزا (کوڑے یا رجم) تو مقرر کی ہے، لیکن زنا کو نکاح کے راستے کی مستقل رکاوٹ نہیں بنایا۔ جب تک وہ کسی کے جائز نکاح میں نہیں ہے، وہ ایامیٰ میں شمار ہوگی اور اس سے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔

رسول کریمﷺ کا فرمان ہے۔

لَا يَحِلُّ
لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ
غَيْرِهِ (سنن أبي داود: 2158

جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنا پانی کسی دوسرے کی کھیتی میں دے (یعنی حاملہ سے ہم بستری کرے)

رسول اللہ ﷺ نے یہاں نکاح کرنے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ نکاح کے بعد ہم بستری (پانی دینے) سے منع فرمایا ہے۔ اگر حاملہ عورت سے سرے سے نکاح ہی باطل اور حرام ہوتا، تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس سے نکاح مت کرو ۔ لیکن آپ ﷺ کا ممانعت کو صرف ہم بستری تک محدود رکھنا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ عقدِ نکاح (Contract) جائز اور درست ہے، البتہ وضعِ حمل (بچہ پیدا ہونے یا ضائع ہونے) تک اس کے پاس جانا حرام ہے۔

اسے ایک اور شرعی اصول سے سمجھیں۔اگر ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے، اور عین نکاح کے وقت وہ عورت حیض (Menstruation) کی حالت میں ہو۔ تو کیا ان کا نکاح ہو جائے گا؟ شریعت کہتی ہے: جی ہاں، نکاح 100 فیصد ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ عورت حیض سے ہے، اس لیے نکاح کے باوجود شوہر کے لیے اس سے ہم بستری کرنا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ جب وہ چند دنوں بعد پاک ہو جاتی ہے تو ہم بستری حلال ہو جاتی ہے۔ کیا پاک ہونے کے بعد ان کو دوبارہ نیا نکاح کرنا پڑتا ہے؟ بالکل نہیں۔ وہ پہلے والا نکاح ہی کافی ہوتا ہے۔ بالکل یہی اصول حاملہ من الزنا پر لاگو ہوتا ہے۔ زنا کا حمل ایک عارضی ناپاکی اور رکاوٹ تھی۔ نکاح ہو گیا، اور 15 دن بعد جب ابارشن سے رحم پاک ہوا، تو وہی پہلا نکاح مکمل طور پر حلال اور قابلِ عمل ہو گیا۔

چونکہ نکاح درست منعقد ہو چکا تھا اور شریعت کی طرف سے صرف جسمانی تعلق (ہم بستری) پر عارضی پابندی تھی تاکہ کسی اور کا نسب خلط ملط نہ ہو، تو جیسے ہی 15 یا 20 دن بعد ابارشن (Abortion) ہوا، عورت کا رحم پاک ہو گیا اور وہ عارضی شرعی پابندی اسی وقت ختم ہو گئی۔

· اگر نکاح کے ابتدائی 15، 20 دن میں ہم بستری نہیں ہوئی تھی: تو یہ عین شریعت کے مطابق ہوا، اور ابارشن کے بعد سے ان کا تعلق مکمل حلال ہو گیا۔

· اگر لاعلمی میں ان 15، 20 دنوں میں بھی ہم بستری ہوئی تھی: تو یہ شوہر کی طرف سے لاعلمی کی وجہ سے ایک خطاء (غلطی) تھی جس پر اسے معافی ہے (کیونکہ وہ بے خبر تھا)، لیکن اس غلطی سے عقدِ نکاح باطل نہیں ہوتا۔ نکاح اپنی جگہ بالکل قائم اور درست رہا۔

شریعت کا مسلمہ اصول:شریعت کا مسلمہ قاعدہ ہے: الحَرَامُ لَا يُحَرِّمُ الحَلَالَ (کوئی حرام فعل، شریعت کے حلال راستے کو حرام نہیں کرتا)۔ زنا ایک قبیح جرم تھا، مگر اس کی وجہ سے نکاح کا حلال دروازہ بند نہیں ہوگا۔

  • 2. اٹھارہ سالہ تعلق اور بچوں کے نسب کا ثبوت

شوہر 18 سال تک اس حقیقت سے لاعلم رہا اور اسے ایک خالص شرعی نکاح سمجھ کر زندگی گزارتا رہا۔ شریعت کی اصطلاح میں لاعلمی میں گزارے گئے اس تعلق کو نکاحِ شُبہ کہا جاتا ہے۔حدیثِ رسول

ﷺہے:الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ بچہ بستر والے یعنی

شوہر کا ہے اور زانی کے لیے محرومی ہے ۔ [صحیح البخاری: 2053]

ان 18 سالوں میں پیدا ہونے والے چاروں بچے بالکل حلال، طیب اور ثابت النسب ہیں۔ وہ خالصتاً اسی شوہر کی جائز اولاد ہیں اور معاشرے میں ان پر کسی قسم کا کوئی داغ یا دھبہ نہیں ہے۔

  • 3. شوہر کے الفاظ اور علیحدگی کی شرعی حیثیت

شوہر نے حقیقتِ حال جاننے کے بعد جو یہ کہا کہ تیرا میرا نکاح ہی نہیں ہوا اور علیحدگی اختیار کر لی، تو شرعاً اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ شوہر نے یہ الفاظ رشتہ ختم کرنے (انشاءِ طلاق) کی نیت سے نہیں کہے، بلکہ ایک مفتی صاحب کی بات سن کر گزشتہ واقعے کی خبر (اِخبار) دی ہے کہ چونکہ تم حاملہ تھیں اس لیے ہمارا نکاح ہوا ہی نہیں۔ جب نیت طلاق کی نہیں تھی اور شرعاً ائمہ کے وسعت والے قول کے مطابق نکاح موجود تھا، تو محض غلط فہمی پر مبنی اس جملے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔

  • 4. گناہ گاروں کا معاملہ

لڑکی کا شادی سے پہلے زنا کرنا، پھر اپنے شوہر کو دھوکے میں رکھنا، اور پھر دو عورتوں کا مل کر ایک جان کو ضائع (اسقاطِ حمل) کرنا،یہ تمام کبیرہ گناہ ہیں۔ اللہ کی شریعت ان جرائم کو معاف نہیں کرتی جب تک کہ یہ تینوں عورتیں سچی توبہ (توبۃ النصوح) نہ کریں، کثرت سے استغفار نہ کریں اور اللہ کے حضور رو رو کر معافی نہ مانگیں۔ چونکہ شوہر بے خبر تھا، وہ اس گناہ سے مکمل بری الذمہ ہے۔

حتمی نتیجہ:

دلائل کی روشنی میں وہ دونوں اب بھی میاں بیوی ہیں۔ لیکن چونکہ اس مسئلے میں حنابلہ اور بعض اہلِ حدیث علماء کے نزدیک پہلا نکاح باطل تھا، اس لیے شریعتِ اسلامیہ ایسے معاملات میں احتیاط اور تمام علماء کے اختلاف سے نکلنے (خروج عن الخلاف) کا انتہائی شاندار اصول پیش کرتی ہے۔بچوں کی خاطر گھر

بچانے اور مستقبل کے ہر وسوسے کو جڑ سے اکھاڑنے کا واحد اور بہترین حل یہ ہے کہ:

  • 1. شوہر اور بیوی گھر کی چار دیواری میں، دو مسلمان گواہوں کی موجودگی میں، نیا حق مہر مقرر کر کے سادگی سے تجدیدِ نکاح (دوبارہ نکاح کے ایجاب و قبول) کر لیں۔
  • 2. اس تجدیدِ نکاح کے بعد، چونکہ عورت کا رحم 18 سال پہلے ہی پاک ہو چکا تھا، وہ شرعاً تمام مکاتبِ فکر (احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ، اہلِ حدیث) کے نزدیک بلا شک و شبہ، سو فیصد حلال میاں بیوی بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کی پردہ پوشی فرمائے اور انہیں آئندہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، وعلمہ اتم واحکم

( فتوی ٰ:مفتی میاں عتیق الرحمٰن اظہری )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

حافظ میاں مفتی عتیق الرحمٰن اظہریسرپرست اعلیٰ و رئیس دار الافتاءالرحمٰن ڈیجیٹل اسلامک سنٹر
muftiportal.org | mianatiqrehman1988@gmail.com | 123456789

متعلقہ جوابات

تبصرے اور سوالات

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ پہلا تبصرہ کریں!